سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے علاقے شاہ فیصل کالونی گولیمار کے رہائشی نظر محمد میرانی نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے عبدالغنی میرانی اور اس کے دوست حافظ ناگوری کو سکھر پولیس نے شکارپور پھاٹک کے قریب روک کر موٹر سائیکل اور شناختی دستاویزات طلب کیے۔مظاہرین کے مطابق پولیس کی جانب سے دستاویزات طلب کیے جانے پر انہوں نے اپنے بیٹے کے دوست کے واٹس ایپ پر تمام مطلوبہ کاغذات فوری طور پر ارسال کر دیے، تاہم دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود پولیس نے دونوں نوجوانوں کو رہا کرنے کے بجائے اپنے ساتھ لے جا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔نظر محمد میرانی نے بتایا کہ وہ متعلقہ تھانے سمیت مختلف مقامات پر اپنے بیٹے اور اس کے دوست کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر پولیس کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس ان کے بیٹے اور اس کے دوست کو کسی جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلہ بھی ظاہر کر سکتی ہے، جس سے اہل خانہ میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔احتجاج کے دوران نظر محمد میرانی نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے عبدالغنی میرانی اور اس کے دوست حافظ ناگوری کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے، ان کی گمشدگی کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
سکھر: نوجوان کو مبینہ طور پر لاپتا کرنے کے خلاف والد کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، بازیابی کا مطالبہ
Share This Article
Leave a Comment