انگلینڈ کے تجربہ کار آل راؤنڈر معین علی نے بھارتی لیگ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بجائے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو ترجیح دینے کی وجوہات بیان کر دی ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ زیادہ کھیلنے کے مواقع، فارم برقرار رکھنا اور کیریئر کو لمبا کرنا ہے۔
ایک انٹرویو میں معین علی نے کہا کہ گزشتہ آئی پی ایل سیزن میں انہیں کولکتہ نائٹ رائڈرز کی جانب سے صرف محدود میچز کھیلنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پورے سیزن میں صرف آدھے میچز کھیلے اور بیٹنگ کے مواقع بھی بہت کم ملے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر سکے۔ اسی تجربے نے انہیں اس بار آئی پی ایل سے دور رہنے پر مجبور کیا۔
معین علی کے مطابق اس مرحلے پر ان کے لیے سب سے اہم بات مسلسل کھیلنا ہے تاکہ وہ اپنی فارم کو برقرار رکھ سکیں اور کارکردگی میں تسلسل لا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اب 38 سال کے ہیں اور اس عمر میں وہ ہر میچ کو اہم سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اپنے کیریئر کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک جاری رکھنا ہے۔
کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے معین علی نے کہا کہ پی ایس ایل کا انتخاب ان کے لیے ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ ان کے مطابق پی ایس ایل کا مختصر دورانیہ ان کے لیے زیادہ موزوں ہے، کیونکہ اس سے انہیں جسمانی تھکن کم ہوتی ہے اور وہ بہتر انداز میں پرفارم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ سے پی ایس ایل میں کھیلنے کے خواہشمند تھے، تاہم آئی پی ایل اور دیگر لیگز کے شیڈول ٹکراؤ کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑیوں کو اکثر کسی ایک لیگ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اس بار انہوں نے پی ایس ایل کو ترجیح دی کیونکہ یہ ان کے ذاتی اور پیشہ ورانہ اہداف کے مطابق زیادہ بہتر تھی۔
معین علی نے یہ بھی کہا کہ کراچی آ کر کھیلنا ان کے فیصلے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کھیل کا ماحول، شائقین کی محبت اور ٹیموں کی مسابقتی سطح انہیں بہت متاثر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل نہ صرف ایک مضبوط کرکٹ لیگ ہے بلکہ یہ غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتیں کھل کر دکھا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس بار آئی پی ایل کے بجائے پی ایس ایل کا انتخاب کیا۔
مجموعی طور پر معین علی کا یہ فیصلہ ان کی فٹنس، فارم اور طویل کرکٹ کیریئر کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ پی ایس ایل کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ عالمی سطح کے کھلاڑی اسے ترجیح دے رہے ہیں۔