واشنگٹن: ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی ایئرلائنز کے ایندھن کے اخراجات اور استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے فضائی شعبے پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق ملک کی بڑی ایئرلائنز نے مارچ کے دوران جیٹ فیول پر 5 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے، جو فروری کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کے برابر ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق مارچ میں جیٹ فیول کی اوسط قیمت 3.13 ڈالر فی گیلن رہی، جو فروری کے مقابلے میں 74 سینٹ زیادہ ہے۔ اس اضافہ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات پر پڑتا ہے، کیونکہ جیٹ فیول مجموعی لاگت کا ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔
ایندھن کے استعمال میں اضافہ
محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگی صورتحال کے دوران امریکی ایئرلائنز کے ایندھن کے استعمال میں بھی 20 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ طویل فضائی روٹس، سیکیورٹی خدشات اور بعض فضائی حدود کی تبدیلی کے باعث ہوا، جس سے پروازوں کا دورانیہ اور فیول کھپت دونوں بڑھ گئے۔
جنگی صورتحال کا اثر
رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگی صورتحال نے عالمی فضائی نظام پر بھی اثرات ڈالے ہیں۔
ایئرلائنز کو نہ صرف اضافی ایندھن استعمال کرنا پڑا بلکہ بعض روٹس تبدیل کرنے کے باعث آپریشنل پیچیدگیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
مالی دباؤ میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور زیادہ استعمال ایئرلائن انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن رہے ہیں، جس سے ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
امریکی ایئرلائنز پہلے ہی مہنگائی، عملے کے اخراجات اور عالمی سپلائی چین کے مسائل کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔