کراچی: پاکستانی اداکارہ عظمیٰ طاہر نے اداکار دانش تیمور کے رویے پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے انہیں مغرور قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے بعد انسان کو اپنا ماضی نہیں بھولنا چاہیے۔
حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں عظمیٰ طاہر نے شوبز انڈسٹری، سینئر اور جونیئر اداکاروں کے رویوں اور سیٹ کلچر سے متعلق گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے کئی اداکاروں کے رویوں پر بھی تبصرہ کیا۔
شوبز انڈسٹری کے ماحول پر بات
اداکارہ نے کہا کہ جب انہوں نے انڈسٹری میں کام شروع کیا تو صورتحال مختلف تھی۔ ان کے مطابق اس وقت سینئر اداکار اپنے برابر میں نئے اداکاروں کو بیٹھنے تک نہیں دیتے تھے، اور سیٹ پر واضح طبقاتی فرق موجود ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی کہیں نہ کہیں یہ رویہ موجود ہے، جہاں سینئرز اور عملے کے کھانے اور بیٹھنے کے انتظامات بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔
دانش تیمور پر براہ راست تنقید
انٹرویو کے دوران عظمیٰ طاہر نے اداکار دانش تیمور کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان میں “تھوڑا غرور” آ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص ماضی میں عام حالات میں کام کرتا رہا ہو اور بعد میں کامیابی حاصل کرے تو اسے اپنی ابتدائی جدوجہد نہیں بھولنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات لوگ اپنی موجودہ کامیابی کو اپنی اصل پہچان سمجھنے لگتے ہیں، جو درست رویہ نہیں۔
“انسان کو اپنا کل یاد رکھنا چاہیے”
عظمیٰ طاہر نے کہا کہ کامیاب انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ماضی کو یاد رکھے اور ان حالات کو نہ بھولے جن سے وہ گزر کر یہاں تک پہنچا ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ اب بڑی کامیابی حاصل کرچکا ہے اور بہت زیادہ کماتا ہے، تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا آغاز کہاں سے ہوا تھا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ آج کامیاب ہونے کے بعد اپنے پرانے حالات بھول جاتے ہیں، جو ایک منفی رویہ ہے۔
ساتھی اداکاروں کے رویے پر رائے
اداکارہ نے کہا کہ کام کے دوران اچھے رویے کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کے مطابق کچھ اداکار اپنے ساتھیوں اور عملے کے ساتھ بہتر انداز میں پیش آتے ہیں جبکہ کچھ میں یہ کمی نظر آتی ہے۔
انہوں نے اداکارہ صدف کنول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے ہمیشہ اچھے طریقے سے ملتی ہیں اور ان کا رویہ مثبت ہوتا ہے۔
انڈسٹری میں رویوں پر بحث
عظمیٰ طاہر کے اس بیان کے بعد شوبز انڈسٹری میں اداکاروں کے رویوں اور سیٹ کلچر پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔
مداحوں کی جانب سے اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، کچھ لوگ ان کے مؤقف سے اتفاق کر رہے ہیں جبکہ کچھ اسے ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں۔