لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اداکارہ فضا علی کی ایک وائرل ویڈیو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹنگ کے حصول کے لیے حدود پار کرنا افسوسناک ہے اور اس پر سوال اٹھنا ضروری ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس معاملے پر پیمرا کو نوٹس لینا چاہیے اور امید ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے گا۔ ان کے مطابق میڈیا پر ذاتی نوعیت کے مناظر دکھانے سے پہلے اخلاقی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فضا علی کی ایک 8 سے 10 سال کی بیٹی بھی اس پروگرام میں موجود تھی اور اس نوعیت کے مناظر عوامی سطح پر پیش کرنا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی زندگی کی حدود ہوتی ہیں جن کا احترام ضروری ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ ہر شخص کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے اور خوش رہنا اچھی بات ہے، لیکن اسے اس انداز میں کیمرے کے سامنے پیش کرنا درست نہیں جس سے معاشرتی ردعمل پیدا ہو۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد ریٹنگ کے لیے ہر حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے اور اسے روکنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں فضا علی نے اپنے مارننگ شو میں اپنے شوہر اعجاز خان کو بطور مہمان مدعو کیا تھا، جہاں انہوں نے اپنی محبت اور تعلق کی کہانی شیئر کی۔ پروگرام میں ان کی بیٹی بھی موجود تھی۔
اسی دوران ایک لمحے میں شوہر کی جانب سے فضا علی کو کندھے پر اٹھانے کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی۔