واشنگٹن/بیجنگ: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اعلان پر عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ چین نے اس اقدام کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
چینی وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جون نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ایران کے ساتھ اہم تجارتی اور توانائی کے معاہدے موجود ہیں، جن کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور دیگر ممالک سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
ایڈمرل ڈونگ جون کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور یہ چین کے لیے کھلی ہے، جبکہ چینی بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب چینی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی آبی راستے کو محفوظ، مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق چین توانائی کی مسلسل فراہمی اور عالمی استحکام کیلئے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔
بیان میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ پیش رفت کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، اور امید ظاہر کی گئی کہ تمام فریقین جنگ بندی کا احترام کریں گے۔
ادھر برطانیہ اور آسٹریلیا نے بھی آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کی مخالفت کی ہے، جبکہ ترکیہ اور جاپان نے اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کیلئے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔