امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے موجودہ ڈائریکٹر کاش پٹیل کے بارے میں ایک برطانوی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ماضی میں شراب نوشی اور سرعام پیشاب کرنے جیسے واقعات پر دو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کاش پٹیل نے خود بھی 2005 میں میامی ڈیڈ پبلک ڈیفنڈر کے دفتر میں موجود اپنی فائل میں ان واقعات کا ذکر کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق انہوں نے لکھا کہ ایک موقع پر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک بار میں شراب نوشی اور جشن منانے میں مصروف تھے، بعد ازاں گھر جاتے ہوئے انہوں نے راستے میں پیشاب کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں سرعام پیشاب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
اسی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک اور واقعہ 2001 میں پیش آیا جب وہ یونیورسٹی آف رچمنڈ، ورجینیا کے طالب علم تھے۔ اس دوران مبینہ طور پر شراب نوشی کے باعث انہیں ایک اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق کاش پٹیل نے اپنے بیان میں ان واقعات پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور لکھا تھا کہ یہ ان کی عام زندگی یا طرزِ عمل کی نمائندگی نہیں کرتے۔
تاہم ان الزامات پر ایف بی آئی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ادارے کے ترجمان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاش پٹیل کی مکمل بیک گراؤنڈ چیکنگ کے بعد انہیں اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا، لہٰذا ان پر اٹھائے گئے سوالات بے بنیاد ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت اور شفافیت پر پہلے ہی سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی رپورٹس اکثر سابقہ ریکارڈز اور غیر مصدقہ دستاویزات پر مبنی ہوتی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
فی الحال کاش پٹیل کی جانب سے براہ راست کوئی تفصیلی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ایف بی آئی نے واضح کیا ہے کہ ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات ادارے کے سرکاری ریکارڈ اور سکیورٹی جانچ کے نتائج سے مطابقت نہیں رکھتے۔