انڈونیشیا کے حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ انہیں ماہی گیری کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ایک طیارے کا ملبہ مل گیا ہے جو جنوبی سولاویسی میں ایک دھند سے ڈھکے پہاڑ کے قریب لاپتہ ہو گیا تھا، تاہم طیارے میں سوار تمام 11 افراد کی تلاش ابھی جاری ہے۔
طیارے میں آٹھ عملے کے ارکان اور تین مسافر سوار تھے۔ یہ طیارہ انڈونیشیا کی وزارتِ بحری امور و ماہی گیری نے فضائی نگرانی کے لیے کرائے پر لیا تھا، جبکہ تینوں مسافر وزارت کے ملازمین تھے۔
یہ ATR 42-500 ٹربوپراپ طیارہ، جو انڈونیشیا ایئر ٹرانسپورٹ کی ملکیت تھا، ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:30 بجے (0530 جی ایم ٹی) کے قریب ماروس کے علاقے میں ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کھو بیٹھا۔
جنوبی سولاویسی کے ریسکیو ادارے کے سربراہ محمد عارف انور نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ ملبہ ملنے کے بعد 1,200 اہلکاروں کو لاپتہ مسافروں اور عملے کی تلاش کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا:
“ہماری اولین ترجیح متاثرین کی تلاش ہے، اور ہمیں امید ہے کہ کچھ افراد کو بحفاظت نکال لیا جائے گا۔”
طیارہ یوگیاکارتا سے روانہ ہو کر مکاسر (جنوبی سولاویسی کا دارالحکومت) جا رہا تھا کہ اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
اتوار کی صبح مقامی ریسکیو ٹیموں نے ماروس کے علاقے میں واقع ماؤنٹ بُلوساراؤنگ کے اطراف مختلف مقامات پر طیارے کا ملبہ دریافت کیا۔ یہ پہاڑ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے تقریباً 1,500 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
ریسکیو ایجنسی کے اہلکار اندی سلطان نے صحافیوں کو بتایا:
“ہمارے ہیلی کاپٹر عملے نے صبح 7:46 بجے طیارے کی کھڑکی کا ملبہ دیکھا۔
اور تقریباً 7:49 بجے طیارے کے بڑے حصے، جو ممکنہ طور پر اس کا دھڑ ہیں، دریافت کیے گئے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ طیارے کی دم (ٹیل) بھی پہاڑ کی ڈھلوان کے نیچے دیکھی گئی ہے۔
ریسکیو اہلکار ان مقامات پر پہنچ چکے ہیں جہاں ملبہ ملا، تاہم شدید دھند اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ریسکیو ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کی ایک کھڑکی پہاڑ پر بکھری ہوئی ہے، جبکہ وہاں شدید دھند اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔
اندی سلطان نے بتایا کہ انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی کمیٹی اس حادثے کی تحقیقات کی قیادت کرے گی۔ حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، اور ماہرین کے مطابق اکثر فضائی حادثات متعدد عوامل کے باعث پیش آتے ہیں۔
واضح رہے کہ ATR 42-500 ایک علاقائی ٹربوپراپ طیارہ ہے، جسے فرانکو-اطالوی کمپنی ATR نے تیار کیا ہے اور یہ 42 سے 50 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ Flightradar24 کے مطابق، طیارہ سمندر کے اوپر کم بلندی پر پرواز کر رہا تھا، جس کے باعث اس کی ٹریکنگ محدود رہی۔ طیارے کا آخری سگنل 0420 جی ایم ٹی پر مکاسر ایئرپورٹ سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں موصول ہوا تھا۔