بنگلادیش کے طالب علم رہنما اور سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچ کے رہنما عثمان ہادی کے قتل کے خلاف ڈھاکا کے شاہ باغ علاقے میں مسلسل تیسرے روز دھرنا جاری ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق دھرنے میں خواتین اور بچوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
انقلاب منچ کے مرکزی رکن نعیم اسلام نے کہا کہ واقعے کے دن ہی ملزمان کو گرفتار کیا جاسکتا تھا، حکومت کو عوام کو بتانا چاہیے کہ کس پر کس کا دباؤ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اگرچہ کچھ گرفتاریوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تاہم اصل قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ عثمان ہادی پر 12 دسمبر کو ڈھاکا کے بیجوئے نگر علاقے میں فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے، انہیں پہلے ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں ایورکیئر اسپتال لے جایا گیا۔
عثمان ہادی کو 15 دسمبر کو بہتر علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ 18 دسمبر کو دورانِ علاج دم توڑ گئے۔