نوشہروفیروز (نمائندہ): نوشہروفیروز کی عدالت میں پسند کی شادی کرنے والے ایک جوڑے نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
دریاخان کے رہائشی نثار احمد مری اور ضلع خیرپور کے علاقے پیر وسن کی رہائشی بینظیر پہل نے نوشہروفیروز کی عدالت میں قانونی طور پر نکاح کرنے کے بعد پریس کلب نوشہروفیروز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر نثار احمد مری اور بینظیر پہل نے کہا کہ انہوں نے شریعت محمدی کے مطابق عدالت میں قانونی طور پر نکاح کیا ہے۔
بینظیر پہل نے بتایا کہ اس کی پہلے سرمد پہل سے شادی ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں اسے طلاق مل گئی، جس کے بعد عدت مکمل ہونے پر اس نے نثار احمد مری سے شریعت اور قانون کے مطابق شادی کی۔
جوڑے نے الزام عائد کیا کہ ان کے بعض رشتہ دار، جن میں علی مراد مری، سلیمان پہل، گلن پہل اور دیگر شامل ہیں، ان کی شادی پر ناراض ہیں اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ، وزیر داخلہ، آئی جی سندھ پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف و خطر اپنی زندگی گزار سکیں۔
نوٹ: خبر میں شامل الزامات پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔ متعلقہ افراد یا حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر میں شامل کیا جائے گا۔