اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر ہفتے کے روز ترکیہ کے شہر استنبول کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال، خطے میں امن کی کوششیں اور عالمی سفارتی سرگرمیاں اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جس کے باعث اس ملاقات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر اردوان کے درمیان دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صنعت، علاقائی روابط اور اسٹریٹجک تعاون سمیت دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
دونوں رہنما گزشتہ برسوں میں قائم ہونے والی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
توقع ہے کہ ملاقات میں غزہ، ایران، شام، مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی، توانائی کے تحفظ اور بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔
پاکستان اور ترکیہ، دونوں ایران کے ہمسایہ اور قریبی دوست ممالک ہیں، اسی تناظر میں خطے میں امن، استحکام اور مستقبل کی علاقائی حکمت عملی پر مشاورت بھی ملاقات کا اہم حصہ ہوگی۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان-ترکیہ بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جس میں ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز، دونوں ممالک کے وزرا، صنعت کار، سرمایہ کار، کاروباری تنظیموں کے نمائندے اور اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔
بزنس فورم کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو ترک کاروباری برادری کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس موقع پر خصوصی اقتصادی زونز (SEZs)، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ، مینوفیکچرنگ، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے معروف کاروباری گروپس کے چیف ایگزیکٹو افسران سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری، حکومتی مراعات، کاروباری سہولتوں اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے نئے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔