اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت کے باعث پاکستان میں 6 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔
سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے، تاہم یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کا معاملہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ اصل مسئلہ پانی کو کنٹرول کرکے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش ہے، جس کے سنگین اثرات زراعت، معیشت اور عوام کی زندگیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح طور پر اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جو دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔
مصدق ملک نے کہا کہ اگر اتنا مضبوط معاہدہ بھی برقرار نہ رہ سکا تو پھر دنیا کے کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت محفوظ نہیں رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ملک کو علاقائی یا عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پانی کی قلت کے باعث پاکستان میں کسان زراعت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلادیش سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: بھارتی آبی جارحیت اور جانی نقصان سے متعلق اعداد و شمار وفاقی وزیر مصدق ملک کے بیان پر مبنی ہیں، جن کی اس خبر میں آزاد ذرائع سے تصدیق شامل نہیں ہے۔