وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کیا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں: وزیراعظم
انہوں نے خیبر پختونخوا کو ملک کے اہم ترین اور اسٹریٹجک خطوں میں سے ایک قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا کہ ریاست ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات اسلام آباد میں خیبر پختونخوا سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کو ملک کے اہم ترین اور اسٹریٹجک خطوں میں سے ایک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم کو متحد رہنا ہوگا۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر صوبوں نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اپنے حصے سے 800 ارب روپے فراہم کیے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ “اچھے” اور “برے” طالبان میں کوئی فرق نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حالیہ برسوں میں شدت پسندی پر قابو پانے کی کامیاب کوششوں کے باوجود دہشت گردی دوبارہ کیوں سر اٹھا رہی ہے۔
افغانستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان اختلافات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدہ سنبھالنے پر فون کر کے مبارکباد دی تھی، جس پر وزیراعلیٰ نے شکریہ ادا کیا، تاہم اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے صوبے میں استحکام لانا چاہتی ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وژن “عزمِ استحکام” کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
افغان طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان سے ملحقہ صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 6 جنوری کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ 2025 کے دوران ملک بھر میں 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 14,658، بلوچستان میں 58,778 جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں 1,739 آپریشنز کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 5,397 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3,811 خیبر پختونخوا، 1,557 بلوچستان جبکہ دیگر علاقوں میں 29 واقعات پیش آئے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں 2,597 دہشت گرد مارے گئے۔ ملک میں ہونے والے 10 بڑے دہشت گرد حملوں کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریوں اور نرم اہداف کو دانستہ نشانہ بنایا گیا، اور تمام حملوں میں افغان دہشت گرد ملوث تھے۔