لاہور: ملک کے مختلف شہروں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ بڑھتی ہوئی گرمی کے ساتھ بجلی کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت توانائی بجلی کی پیداوار بڑھانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے جس کے باعث شہریوں اور صنعتوں دونوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈسکوز ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ سے کم نہیں ہو سکا، جس کی بنیادی وجہ طلب میں اضافہ اور پیداوار میں کمی ہے۔ شدید گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے مقابلے میں سپلائی پوری نہیں ہو پا رہی۔
ذرائع کے مطابق وزارت توانائی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو لوڈ بیلنس کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ اس غیر اعلانیہ بندش نے عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مزید برآں، صنعتی شعبے کو بھی لوڈشیڈنگ کے شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ صنعتوں کے لیے روزانہ 2 سے 3 گھنٹے بجلی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کاروباری حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بند پاور پلانٹس کو دوبارہ فعال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ہائیڈل پاور جنریشن بڑھانے اور مزید 90 ملین کیوبک گیس حاصل کرنے کے اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
دوسری جانب ملک کے بڑے شہروں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 7 سے 8 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بغیر شیڈول کے بجلی بند ہونے سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ کاروبار اور گھریلو امور بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں لوڈشیڈنگ نے طلبہ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ بار بار بجلی بند ہونے سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور وہ مناسب طریقے سے پڑھائی نہیں کر پا رہے۔
والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات کے دوران لوڈشیڈنگ کو کم سے کم کیا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ توانائی کے شعبے میں فوری اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ عوام اور معیشت دونوں کو اس بحران کے اثرات سے بچایا جا سکے۔