اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف اہم پیش رفت کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ان کی مسلسل عدم حاضری کے باعث اٹھایا گیا۔
کیس کی سماعت سول جج عباس شاہ نے کی، جہاں ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے معاملے پر کارروائی جاری تھی۔ عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور فوری طور پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے اگلی سماعت پر پیش کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف یہ مقدمہ پیکا ایکٹ (PECA) کے تحت درج کیا گیا ہے، جسے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے قائم کیا تھا۔ مقدمے میں الزام ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دیے، جو قانون کی نظر میں قابلِ گرفت ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہونا ایک سنجیدہ مرحلہ ہوتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت ملزم کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
یہ پیش رفت سیاسی حلقوں میں بھی خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ ایک حاضر سروس وزیراعلیٰ کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیش رفت ملکی سیاست اور قانونی منظرنامے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔