ایم کیو ایم-پی رہنما کا کہنا ہے کہ کراچی کو سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
مصطفیٰ کمال نے 18ویں ترمیم کو ملک کے لیے “کینسر” قرار دے دیا۔
کراچی کو پاکستان کا مالیاتی دارالحکومت بنانے کا مطالبہ۔
مہلک گل پلازہ آتشزدگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی علاقہ قرار دیا جائے، اور کہا ہے کہ یہ اقدام “پاکستان کی خاطر” ضروری ہے۔
بہادرآباد میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم-پی کے رہنما اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور کراچی کو اس کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 60 تک جا پہنچی ہے جبکہ 88 افراد تاحال لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
لاپتا افراد کے لواحقین نے تین منزلہ گل پلازہ میں جاری سست ریسکیو آپریشن پر شدید تنقید کی ہے، جہاں امدادی ٹیمیں ملبے سے انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں۔
کراچی کی مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں ناقص انفراسٹرکچر کے باعث آگ لگنے کے واقعات عام ہیں، تاہم اس نوعیت کی بڑی آتشزدگی شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔
حکومت کی جانب سے تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، تاہم آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی۔
گل پلازہ سانحے پر تبصرہ کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا،
“ہمیں مزید کتنے حادثات برداشت کرنے ہوں گے؟ مزید کتنی لاشیں نکالنی ہوں گی؟ کتنے اور بچے کھلے نالوں میں گر کر جان سے جائیں گے؟”
انہوں نے مزید کہا،
“سندھ میں یہ جمہوری دہشت گردی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔”
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کی قیادت میں سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا،
“یہ شہر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔”
انہوں نے کہا،
“آپ (پیپلز پارٹی) عوام پر حکومت کرتے رہے اور ایسے سانحات کے انتظار میں رہے۔ جب جواب مانگا جاتا ہے تو الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیتے ہیں کہ بلدیہ فیکٹری کو ہم نے جلایا تھا۔”
مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں بدامنی کے دور میں، جس کا الزام آج بھی ایم کیو ایم پر لگایا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کے وزرا لندن جا کر الطاف حسین سے ملاقاتیں کرتے تھے۔
انہوں نے کہا،
“18ویں ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات فلاح کے بجائے نسل کشی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ 18ویں ترمیم ملک کے لیے کینسر بن چکی ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔”
’ایم کیو ایم کی حقیقت سب کے سامنے ہے‘
مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ
“وہ لوگ جو بھتے کے لیے لوگوں کو زندہ جلاتے رہے، آج گل پلازہ سانحے کو سیاست کی نذر کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا،
“ایم کیو ایم کی حقیقت سب کے سامنے ہے، جو ایک دن میں سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا کرتی تھی۔ انہوں نے بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی اور 2009 میں عاشورہ کے جلوس پر خودکش حملے کے بعد ایم اے جناح روڈ پر بازاروں کو نذر آتش کیا۔”
شرجیل میمن نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بعد اب مصطفیٰ کمال نے بھی 18ویں ترمیم کے خلاف بیان دیا ہے اور سوال اٹھایا کہ ایسے بیانات کا وقت کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے کے بعد اچانک 18ویں ترمیم کے خلاف بیانات سامنے آنا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی 18ویں ترمیم کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو اسے اسمبلی کے فلور پر کرے، پارلیمنٹ سے باہر محض تقاریر سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
’18ویں ترمیم کو اتفاقِ رائے سے بہتر بنایا جا سکتا ہے‘
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی اور اسے اتفاقِ رائے سے بہتر بھی بنایا جا سکتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا 18ویں ترمیم پر مؤقف ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔
ان کے یہ بیانات پیپلز پارٹی کے اس سخت ردعمل کے ایک دن بعد سامنے آئے، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں ترمیم کو “ڈھونگ” قرار دینے پر شدید اعتراض کیا گیا اور ترمیم واپس لینے کی کسی بھی کوشش سے خبردار کیا گیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے اور جب تک بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں ہوں گے عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے زور دیا کہ مؤثر سروس ڈیلیوری کے لیے ضلعی حکومتوں کو اختیارات دینا ضروری ہے۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا،
“آئین میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔”