سکھر(بیورورپورٹ)قومی عوامی تحریک سکھر کی جانب سے “متحد اور مضبوط سندھ مہم” کے سلسلے میں ایوب گیٹ سے سکھر پریس کلب تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی زوردار نعرے بازی کے ساتھ پریس کلب پہنچی، جہاں ریلی احتجاجی جلسے اور دھرنے کی صورت اختیار کر گئی۔
ریلی کی قیادت قومی عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ ظفر علی چنہ، ایڈووکیٹ زاہد بھنبھرو، سکندر لاشاری، ڈاکٹر وزیر گہنیو، سید واجد بخاری، امداد سومرو اور دیگر رہنماؤں نے کی، جبکہ کارکنوں، شہریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین نے سندھ کے پانی، زمین اور قدرتی وسائل کے تحفظ، جلال پور کینال اور کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے خلاف، میرٹ کی بحالی اور اغوا شدہ معصوم بچوں و بچیوں کی بازیابی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سندھ اس وقت شدید آبی قلت کا سامنا کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب کی جانب سے جلال پور کینال سمیت چشمہ۔جہلم لنک کینال اور تونسہ۔پنجند لنک کینال کے ذریعے سندھ کے حصے کے پانی پر ناجائز قبضہ کرکے پانی منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ارسا اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ سندھ حکومت بھی وفاق کی معاونت کرتے ہوئے سندھ کے آبی حقوق کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پانی کی شدید قلت کے باعث سندھ کی زراعت، کاشتکاروں اور ہاریوں کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی غیر آباد ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ اور متنازع کینال منصوبے سندھ کی زمینوں، وسائل اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں اغوا، کم عمر بچیوں کے مبینہ جبری مذہب تبدیل کرانے اور معصوم بچوں کی گمشدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ مقررین نے پریا کماری، فضیلہ سرکی، اجالا سولنگی سمیت 24 اغوا شدہ بچوں اور بچیوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔مقررین نے الزام لگایا کہ سندھ میں بدامنی، قبائلی تنازعات اور انتہاپسندی کو فروغ دے کر قومی یکجہتی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اور اگر کسی آئینی ترمیم یا فیصلے کے ذریعے سندھ کی وحدت، وسائل یا آئینی حقوق پر ضرب لگانے کی کوشش کی گئی تو سندھ کے عوام اس کے خلاف پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔قومی عوامی تحریک کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلال پور کینال سمیت سندھ کے پانی کو متاثر کرنے والے تمام متنازع منصوبے فوری طور پر ختم کیے جائیں، کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے واپس لیے جائیں، سندھ کے حصے کے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، میرٹ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، جبکہ پریا کماری سمیت تمام اغوا شدہ بچوں اور بچیوں کو فوری طور پر بازیاب کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔احتجاجی ریلی اور دھرنے میں رضوان ہادی بھٹ، انور مہر، خیر محمد ناپر، شاہنواز ابڑو، عامر بابلاڑی، نہال خان بھنبھرو، رفیق احمد کمبوہ، آکاش کمبوہ سمیت دیگر رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں نے بھی شرکت کی۔
سکھر: قومی عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام “متحد اور مضبوط سندھ مہم” کے سلسلے میں احتجاجی ریلی، دھرنا، پانی، وسائل اور اغوا شدہ بچوں کی بازیابی کے لیے مطالبات
Share This Article
Leave a Comment