چشتیاں: ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں میں سیوریج لائن کی صفائی کے دوران پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے سے میونسپل کمیٹی کے دو سینیٹری ورکر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک اور کارکن کو بے ہوشی کی حالت میں نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ واقعہ چشتیاں کی محبوب کالونی میں پیش آیا، جہاں میونسپل کمیٹی کے تین سینیٹری ورکر مین ہول میں اتر کر سیوریج لائن کی صفائی کر رہے تھے۔ صفائی کے دوران اچانک مین ہول میں زہریلی گیس بھر جانے سے تینوں کارکنوں کی حالت غیر ہوگئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ تینوں کارکنوں کو مین ہول سے نکال کر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم دو سینیٹری ورکر جانبر نہ ہو سکے، جبکہ تیسرے کارکن کو تشویشناک حالت میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نے بتایا کہ ادارے کے پاس حفاظتی کٹس، ماسک اور دیگر حفاظتی سامان موجود تھا، تاہم آپریشن کے دوران ان کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا، اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر غفلت برتنے پر سینیٹیشن آپریشن انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔
چیف آفیسر کے مطابق صفائی کے دوران حفاظتی ماسک، آکسیجن سلنڈر اور دیگر لازمی حفاظتی آلات کی فراہمی اور استعمال کو یقینی نہ بنانے کے معاملے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب جاں بحق ہونے والے سینیٹری ورکرز کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے پیاروں کو مین ہول میں اترنے سے قبل کوئی حفاظتی کٹ، ماسک یا آکسیجن کا انتظام فراہم نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ اہل خانہ نے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تحصیل کی سطح پر سیوریج لائنوں کی صفائی کے لیے عموماً چھوٹی سکنگ مشین استعمال کی جاتی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر ضلعی ہیڈکوارٹر سے بڑی مشین بھی منگوائی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس موقع پر مشین کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا اور کارکنوں کو حفاظتی سامان کیوں فراہم نہیں کیا گیا، جس کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی دو روز کے اندر اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی 10 جون کو ضلع لودھراں میں سیوریج لائن کی صفائی کے دوران زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے سے دو سینیٹری ورکر جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد شہری حلقوں نے سیوریج کی صفائی کے دوران حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔