اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے توانائی اور مالیاتی منڈیوں پر اثرات مرتب کیے ہیں۔
عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 112 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مذاکرات میں تعطل اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ایشیائی اور یورپی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان غالب رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1,144 پوائنٹس کی کمی کے بعد 167,268 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
علاقائی مارکیٹس کی بات کریں تو جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے شیئر بازاروں میں مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر ان ممالک پر جو توانائی درآمد کرتے ہیں۔