کہ قومی اثاثے بیچنے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ ملکی وسائل محنت، دیانت، مزدور کی سرپرستی اور میرٹ سے بڑھتے ہیں، نہ کہ ادارے چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں گروی رکھنے سے۔وہ( پی آئی اے) جو کبھی پاکستان کی آزادی خودمختیاری اور وقار کی علامت تھی جو دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم کا وقار بلند کیےاڑتی تھی آج اسے ایک لمیٹڈ کمپنی بنانے پر حکمران خوشیاں منا رہے ہیں۔(پی ٹی سی ایل)۔اور (اسٹیل مل)۔و بند کر کے ھزاروں محنت کشوں کو بیروزگار کیا اب ملک کے قومی اثاثی پی آئی اے۔ اور پاکستان ریلوے کے نیلامی ملک دشمنی ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے: ایک زندہ ادارہ، جسے سوچ سمجھ کر مارا گیاپی آئی اے کے بعد اب باری پاکستان ریلوے کی ہے۔ پاکستان ریلوے کی تباہی کی داستان کسی ایک کاغذ پر نہیں، بلکہ ہر اسٹیشن، ہر ٹریک، ہر ورکشاپ اور ہر مزدور کے چہرے پر لکھی ہوئی ہے۔ یہ ادارہ جس نے ملک کو جوڑا، معیشت کو سہارا دیا، آج شدید بے چینی، بدحالی اور مایوسی کا شکار ہے۔پاکستان کے قومی اداروں کو تباہ کرنے میں،نااہل حکومتی اور کرپٹ وزرائے ،بدعنوان اور نالائق افسران،محنت کشوں کا استحصال کرنے والے عناصرسب برابر کے شریک ہیں۔جب تک پاکستان کے قومی اداروں میں پلنے والی ان کالی بھیڑوں اور ان کے سرپرستوں کا بے رحم اور شفاف احتساب نہیں ہوگا، کوئی بھی اصلاح، کوئی بھی پالیسی، اور کوئی بھی نجکاری اس اداروں کو نہیں بچا سکتی۔ ادارے فروخت کر دینے سے بدعنوانی ختم نہیں ہوتی، بلکہ اسے تحفظ مل جاتا ہے۔قومی اداری کی نجکاری احتساب کے بغیر فروخت قومی جرم ہے دنیا کے بیشتر ممالک میں قومی اداروں کی نیلامی ریاستی ناکامی، ہزیمت اور اجتماعی شرمندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔پاکستان ریلوے پریم یونین( سی بی اے )کے مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو کا کہنا تھا کہ حکومتیں اپنے قومی اثاثوں کو بچانے کے لیے سیاسی سرمایہ، عوامی حمایت بلکہ بعض اوقات اپنا وجود تک داو¿ پر لگا دیتی ہیں۔ مگرافسوس ہماری حکمرانہ اپنے قومی اثاثے بیچنے کو کامیابی کا تمغہ بنا کر پیش کرتے ہے، اور کروڑوں روپے کے اشتہارات کے ذریعے اس پر فخر بھی کیا جاتا ہے۔جہاں دنیا قومی اداروں کو سنبھالنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگاتی ہے، وہیں پاکستان میں انہیں فروخت کرنا ایک “دلکش پیکیج” کی صورت عوام کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ (پی آئی اے) کو آوٹ سورس کرنے پر شدید لفظوں سے مذمت کرتے ہے اور پاکستان ریلوے ہماری ملک کا دفاعی اور رفاعی ادارہ ہے پاکستان ریلوے کے نیلامی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے ہم اونے پونے داموں ٹھیکداروں کو دینے نہیں دیں گے ایک حساس ادارہ کی نجکاری مزدور دشمنی ہے ریلوے کو کسی صورت مزدور دشمنوں کے حوالے نہیں کرنے دیا جائے گا ہماری مطالبات ٹرینوں کی آوٹ سورسنگ ریلوے رکے افسروں کی نااہلی کا ثبوت ہے۔ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات فی الفور ادا کے جائیں۔3 دیگر اداروں کی طرح ریلوے ملازمین کی تنخواہی حکومت اپنے ذمہ لے 2019سے بند T A کی ادائگی کی جائے تمام ملازمین کی تنخواہی ہر ماہ یکم کو ادا کی جائیں انشااللہ پوری قوت اور طاقت کے ساتھ ملک بہر میں احتجاجی مظاہری کئے جائیں گی ہم ریل بچانے نکلے ہے او ہماری ساتھ چلو ہماری مطالبات منظور کے جائے۔
پاکستان ریلوے پریم یونین( سی بی اے )کے مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا ہے کہ
Share This Article
Leave a Comment