اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے باپ کے قتل میں ملوث مجرم غلام مصطفیٰ کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں ہوئی، جس میں جائیداد کے تنازع پر اپنے ہی والد کو قتل کرنے کے جرم میں سزا پانے والے ملزم کی اپیل پر غور کیا گیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے بعد ازاں تحریری صورت میں جاری کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جائیداد کے لیے اپنے ہی باپ کا خون بہانے والا شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں۔ عدالت نے اس جرم کو انتہائی سنگین اور معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد مضبوط اور قابلِ اعتماد ہیں، جن کی بنیاد پر سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔ یوں عدالت نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو بھی درست قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتیں سنگین نوعیت کے جرائم، خصوصاً خاندانی قتل جیسے واقعات میں سخت مؤقف اپناتی ہیں اور قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔