اسلام آباد مذاکرات میں حصہ لینے کیلئے گزشتہ رات پاکستان آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کیلئے انتہائی غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے جو کئی تہوں پر مشتمل تھے۔
پاکستان کے ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کو لانے والے طیارے نے دارالحکومت تہران سے سوا 400کلومیٹر دور بحیرہ کیسپین کے کنارے گورگان ائیرپورٹ سے اڑان بھری تھی۔
شہری ہوا بازی سے متعلق ایک اہم ذریعے نے نمائندہ جیو نیوز کو بتایا کہ پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ ایرانی مہمانوں کے طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوگا۔
طیارے کا ٹرانسپونڈر بند کیوں کیا جاتا ہے؟
جس طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوتا ہے وہ کمرشل طیاروں کی نگرانی کرنے والے سکینڈری ریڈار پر نظر نہیں آ تا تاہم اس طیارے کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پرائمری ریڈار پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے پرائمری ریڈار پر بھی اس طیارے سے متعلق بنیادی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، یہ طیارہ پرائمری ریڈار پر صرف ایک نقطے کی صورت حرکت کرتا نظر آتا ہے۔