وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہایت اہم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف خود کو بلکہ پورے خطے کو ایک ممکنہ بڑے بحران سے بچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج عالمی برادری کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں اور اسے ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ بھارت کو پاکستان سے حسد کرنے کے بجائے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ایک ایسی صورتحال کو قابو میں کیا جو پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو اس کشیدگی کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تنازع نے عالمی معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے باعث مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ ایسے وقت میں پاکستان نے آگے بڑھ کر مصالحتی کردار ادا کیا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے جس نے پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔
احسن اقبال نے اس کامیابی کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پاکستان نے نہایت دانشمندانہ فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی مشترکہ کوششوں کے باعث نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ اب امریکا اور ایران کے وفود بھی اسلام آباد میں امن کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، جو پاکستان پر عالمی اعتماد کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں رہا ہے اور اس نے ہر موقع پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے جو تصادم کے بجائے بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دیتی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے سرحد پار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سرحد کے اُس پار نظر ڈالے تو اسے وہاں کشیدگی اور اس کے اثرات واضح نظر آئیں گے۔ انہوں نے اس تناظر میں پاکستان کے امن پسند کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے عوام بلکہ ہمسایہ ممالک کو بھی ممکنہ تباہی سے بچانے میں کردار ادا کیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے مشکل حالات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہو، بلکہ ماضی میں بھی ملک نے امن کے قیام کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی کا سبب بنتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ممالک بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کامیاب ہوں گے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا۔
اختتام پر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بھی امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔