وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان رابطہ، امن اور کشیدگی میں کمی پر زور
شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے میں دوسری بار ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امن کے قیام پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، خصوصاً شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے متاثرہ افراد سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو بتایا کہ پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہے اور اس سلسلے میں اسحاق ڈار اور سید عاصم منیر بھی مختلف ممالک سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام میں پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب مسعود پزشکیان نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اعتماد سازی اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف بھی کی۔
آخر میں شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔