اسلام آباد نے پسِ منظر میں رہ کر حساس رابطہ کاری کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی اپنالی
اسلام آباد ایک نہایت حساس سفارتی مرحلے میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے دانستہ طور پر خود کو پس منظر میں رکھا ہوا ہے تاکہ اس نازک عمل میں اس کا کردار کسی رکاوٹ کا باعث نہ بنے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف چند منتخب حکام ہی اس رابطہ کاری کی اصل نوعیت سے آگاہ ہیں، جبکہ حکومت کے بیشتر ارکان بھی معلومات کے لیے بین الاقوامی میڈیا پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنائی گئی ہے کہ کوئی بھی غیر ضروری بیان یا معلومات کا افشاء اس عمل کو متاثر نہ کرے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے خاموشی کی سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور غیر رسمی یا آف دی ریکارڈ گفتگو سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد جاری سفارتی کوششوں کو ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق متعلقہ حکام کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ مکمل خاموشی اختیار کی جائے، کیونکہ اس حساس کردار میں معمولی سی لغزش بھی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کردار سے متعلق زیادہ تر معلومات واشنگٹن اور تہران سے سامنے آ رہی ہیں، نہ کہ خود پاکستان سے۔
حتیٰ کہ جب عالمی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ پاکستان نے امریکا کو بعض اہم ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانے سے روکنے میں کردار ادا کیا، تب بھی اسلام آباد نے ان دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ حکام کے مطابق یہ رویہ پالیسیِ عدم انکشاف کا حصہ ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کسی بھی قبل از وقت انکشاف سے نہ صرف مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر اس کی ساکھ بھی داؤ پر لگ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران دونوں نے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، تاہم اسلام آباد نے خود کو صرف ان معلومات کی تصدیق تک محدود رکھا ہے جو پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔
حکام کے مطابق اس وقت پاکستان کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ پسِ پردہ سفارتی رابطہ کاری میڈیا کی توجہ اور سیاسی شور سے دور رہتے ہوئے کامیابی سے جاری رہ سکے، تاکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکے۔