پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے کے نتیجے میں ایک آٹھ سالہ بچی زخمی ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد شیرنی کے مالکان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ شیرنی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق بچی کو ٹانگ اور کان پر چوٹیں آئیں اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شیرنی کو غیر قانونی طور پر بھیکے وال پنڈ کے ایک نجی گھر میں رکھا گیا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ حملے کے بعد ملزمان شیرنی کے ساتھ موقع سے فرار ہو گئے تھے۔

پولیس اور پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی ٹیموں نے مشترکہ سرچ آپریشن کیا اور ملزمان کو نوانکوٹ کے علاقے سے تلاش کر لیا۔
ترجمان کے مطابق واقعے کے تین گھنٹوں کے اندر شیرنی برآمد کر لی گئی اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کے پاس جنگلی جانور رکھنے کا کوئی لائسنس موجود نہیں تھا، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
گزشتہ برس جولائی میں بھی پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی طور پر جنگلی جانور رکھنے کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 13 شیر برآمد کیے تھے اور پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا، یہ کارروائی اس وقت کی گئی تھی جب ایک پالتو شیر لاہور میں فرار ہو کر تین افراد کو زخمی کر گیا تھا۔
پنجاب بھر میں بغیر لائسنس شیر رکھنے والوں کے خلاف کارروائی وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع کی گئی تھی۔