سڈنی: شمالی سڈنی کے ساحل منگل کے روز بھی بند رہے، جب ایک اور شارک حملے میں بیس کی دہائی کے ایک نوجوان کو کاٹ لیا گیا۔ یہ دو دن میں شہر میں ہونے والا تیسرا شارک حملہ ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق پیر کی شام شمالی سڈنی کے علاقے مینلی کے ایک ساحل پر ایمرجنسی سروسز کو اس وقت طلب کیا گیا جب اطلاع ملی کہ ایک سرفر کو شارک نے کاٹ لیا ہے۔
متاثرہ نوجوان کو ٹانگ پر شدید چوٹیں آئیں اور اسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شمالی ساحلی پٹی پر واقع نادرن بیچز (Northern Beaches) کونسل کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام ساحل تاحکمِ ثانی بند رہیں گے۔
اس سے قبل پیر کے روز ایک 10 سالہ بچہ اس وقت محفوظ رہا جب ایک شارک نے اسے سرف بورڈ سمیت پانی میں گرا دیا، تاہم شارک نے اس کے سرف بورڈ کا ایک حصہ کاٹ لیا۔
اتوار کے روز بھی ایک لڑکا شہر کے ایک ساحل پر شارک کے حملے میں شدید زخمی ہو گیا تھا اور اس کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔
یہ حملے حالیہ دنوں میں ہونے والی شدید بارشوں کے بعد سامنے آئے ہیں، جن کا پانی بندرگاہ اور ساحلوں میں جا گرا، جس سے مبینہ طور پر بل شارک کے لیے سازگار حالات پیدا ہوئے۔ یہ نسل کھارے پانی میں بہتر طور پر نشوونما پاتی ہے۔
تحفظِ فطرت سے وابستہ اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں سالانہ تقریباً 20 شارک حملے رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے اوسطاً تین سے کم واقعات ہلاکت خیز ہوتے ہیں۔ تاہم یہ تعداد ملک کے ساحلوں پر ڈوبنے سے ہونے والی اموات کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔