واشنگٹن: کولمبیا یونیورسٹی کے معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری سکس نے امریکا کی حالیہ پالیسیوں، ایران کے ساتھ کشیدگی اور مذاکراتی عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل اور بیانات کو غیر سنجیدہ اور افراتفری پر مبنی قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پروفیسر جیفری سکس نے کہا کہ موجودہ صورتحال کسی منظم یا گہری حکمت عملی کا نتیجہ دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس میں واضح طور پر بدنظمی اور غیر یقینی پن پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی پالیسی سازی اس وقت ایک واضح سمت سے محروم نظر آتی ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کی شخصیت اور طرزِ سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ واقعی امریکا کی پالیسی ہے یا ایک فرد کے فیصلے۔ ان کے بقول، “یہ امریکا نہیں بلکہ ایک شخص کا شو لگتا ہے جو دھمکیوں، دباؤ اور شور شرابے کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
پروفیسر سکس نے کہا کہ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ مطالبات، دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے ذریعے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سوچ حقیقت سے دور اور ایک حد تک فریب پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو واقعی اس بات پر یقین ہے کہ وہ دھوکے یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اس طرزِ عمل سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال ایک فرد کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، جس میں ادارہ جاتی توازن کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
جیفری سکس نے ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حالیہ بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس معمول سے ہٹ کر ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا توازن متاثر ہو چکا ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکی تاریخ میں کسی صدر کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات کم ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی غیر متوازن پالیسی اور بیان بازی نہ صرف امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر امریکا کے کردار کو ہمیشہ ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ بیانات اور پالیسیوں نے اس تاثر کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں سنجیدہ اور متوازن سفارتکاری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
مجموعی طور پر پروفیسر جیفری سکس کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا کی موجودہ پالیسی سازی اور قیادت پر نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ خود امریکی ماہرین کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔