رانی پور کے قریب گاؤں نہال خان سولنگی کے معذور مردوں اور خواتین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کئی برسوں سے معذوری کی حالت میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر سندھ حکومت اور انتظامیہ نے ان کی کوئی خبر نہیں لی۔
احتجاج میں شامل معذور افراد میں زوار حسین سولنگی، منور حسین، ذاکر حسین، نائلہ ڈہر، جندل ڈہر، علی حیدر اور یاسر عباس سمیت دیگر افراد شامل تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا:
“ہم کئی سالوں سے معذور ہیں، مگر افسوس کہ نہ ہمیں بیت المال سے کوئی مالی مدد ملتی ہے اور نہ ہی معذور کوٹہ کے تحت کوئی نوکری دی گئی ہے۔ ہم بدحالی اور بیماریوں سے لڑ رہے ہیں، لیکن کسی بھی محکمے نے ہماری طرف توجہ نہیں دی۔”
معذور افراد نے مزید کہا کہ وہ بار بار انتظامیہ سے اپیلیں کر رہے ہیں، مگر کوئی بھی افسر ان کی فریاد سننے کو تیار نہیں۔
مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر خیرپور اور اسسٹنٹ کمشنر سوہبوديرو سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور معذور افراد کی مدد کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جلد توجہ نہ دی گئی تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے اور بڑے شہروں کی جانب مارچ بھی کریں گے۔
یہ احتجاج معذور برادری کی بدترین صورتحال کا واضح ثبوت ہے، جس کے لیے انتظامیہ کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔