کراچی: سندھ پولیس نے کراچی میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر 100 سے زائد بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات ہیں، جبکہ اس کے ایک مبینہ ساتھی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ گرفتاری ایک طویل عرصے سے جاری تحقیقات میں بڑی پیش رفت ہے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (انویسٹی گیشن) عثمان سادوزئی کے مطابق یہ گرفتاریاں ٹیپو سلطان کے علاقے میں چھاپے کے دوران کی گئیں، جہاں متاثرہ بچوں میں سے ایک کی نشاندہی پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مرکزی ملزم کی شناخت عمران کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ اس کے مبینہ ساتھی وقاص خان کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سادوزئی نے بتایا کہ 2020 سے 2025 کے دوران اس نوعیت کی سات شکایات باقاعدہ طور پر پولیس میں درج کی گئیں۔ تمام مقدمات میں کیے گئے ڈی این اے تجزیے ایک ہی شخص سے مطابقت رکھتے تھے، جس سے تفتیش کاروں کے شبہات کی تصدیق ہوئی اور گرفتاری ممکن ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہر کیس میں بروقت ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
اس پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بچوں سے زیادتی جیسے جرائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے ملزم کی گرفتاری پر پولیس کی کارکردگی کو سراہا اور کیس کی مؤثر پیروی پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب تک صرف سات متاثرین ہی سامنے آئے ہیں اور پولیس کو ہدایت دی کہ مزید متاثرین کی نشاندہی اور تلاش کی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مقدمہ عدالت میں سختی سے شواہد کی بنیاد پر چلایا جائے تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
مراد علی شاہ نے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو کیس سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کر چکی ہے اور بچوں کے خلاف زیادتی کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پولیس کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہیں اور کیس میں پیش رفت کے ساتھ مزید گرفتاریوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔