ویب ڈیسک: امریکا کے ایک معروف خارجہ پالیسی جریدے نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس تاریخی معاہدے کی معطلی سے خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور جنوبی ایشیا میں ایک بڑے انسانی بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایک تجزیے میں دی نیشنل انٹرسٹ نے کہا کہ بھارت کے معاہدے سے متعلق اقدامات کے بعد خطے میں پانی کی سیاست ایک خطرناک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ جریدے نے خبردار کیا کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی یا اسے کمزور کرنے سے ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ہمسایہ ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
مضمون میں خاص طور پر بھارت کے دلہستی اسٹیج دوم ہائیڈرو پاور منصوبے کا حوالہ دیا گیا، جسے معاہدے کے فریم ورک سے متصادم قرار دیا گیا۔ جریدے کے مطابق نئی دہلی بتدریج پانی کو ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو زیریں دھارے کے ممالک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
جریدے کے مطابق آبی اعداد و شمار کی فراہمی روکنا، جو معاہدے کے تحت ایک بنیادی ذمہ داری ہے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مستقل ثالثی عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں غذائی تحفظ کا ایک بنیادی ستون ہے اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں سے پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ کو یقینی بناتے رہنا ہوگا۔
جریدے نے نتیجہ اخذ کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابلِ قبول ہیں اور غالب امکان ہے کہ عالمی عدالتیں ایسی کوششوں کو مسترد کر دیں گی۔ اس کے ساتھ خبردار کیا گیا کہ پانی سے متعلق طویل تنازعات خطے کے لیے ایک بڑے انسانی سلامتی کے خطرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔