نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات مسلسل 24 گھنٹے جاری رہے، جن میں خطے میں امن کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے ایران اور امریکا دونوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے وزیراعظم شہباز شریف کی فوری جنگ بندی کی اپیل پر مثبت ردعمل دیا۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی دعوت قبول کر کے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔ دونوں وفود گزشتہ روز اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات میں شرکت کر سکیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ مختلف ادوار میں ہونے والی ان مذاکراتی نشستوں میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ان مذاکرات میں فریقین نے سنجیدگی کے ساتھ اپنے مؤقف پیش کیے اور بات چیت کا عمل مسلسل 24 گھنٹے جاری رہا، جو آج صبح اختتام پذیر ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور ان کی قدر کی۔ امید ہے کہ ایران اور امریکا مستقبل میں بھی مثبت رویہ برقرار رکھیں گے اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے آگے بڑھیں گے۔
نائب وزیراعظم نے زور دیا کہ جنگ بندی کے عزم پر تمام فریقین کا قائم رہنا نہایت ضروری ہے، اور پاکستان آئندہ بھی ایران، امریکا اور دیگر ممالک کے درمیان روابط اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔