ڈپٹی میئر سکھر ڈاکٹر ارشد مغل نے شہر کی تاریخی اور قدیمی جنرل لائبریری کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سکھر کی ڈیڑھ صدی پر محیط علمی و ادبی شناخت کے تحفظ اور فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
دورے کے دوران ڈاکٹر ارشد مغل نے لائبریری کے لائبریرین سے ملاقات کی اور ادارے کی مجموعی صورتحال، دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ انہیں بتایا گیا کہ جنرل لائبریری کا قیام 1837ء میں عمل میں آیا تھا اور یہ ادارہ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے تک سکھر میں علم، ادب اور تحقیق کا نمایاں مرکز رہا ہے۔ تاہم طویل عرصے سے عدم توجہ کے باعث لائبریری کی عمارت خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے اور فوری مرمت، تزئین و آرائش کی اشد ضرورت ہے۔
ڈپٹی میئر نے لائبریری کی عمارت، ریڈنگ ہال اور دیگر حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور وہاں موجود قدیم اور نایاب کتب کا بھی مشاہدہ کیا، جن میں مختلف موضوعات پر سینکڑوں قیمتی کتابیں شامل ہیں۔ اس موقع پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ ماضی میں یہ لائبریری سکھر کی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز رہی ہے اور اس کے انتظامی امور شہر کی معزز اور معروف شخصیات انجام دیتی رہی ہیں، جن میں سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر دیوان بھوج سنگھ جی پاہلجانی کا نام خاص طور پر نمایاں ہے، جنہوں نے طویل عرصے تک اس ادارے کی خدمت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد مغل نے کہا کہ جنرل لائبریری سکھر محض ایک عمارت نہیں بلکہ شہر کا ایک قیمتی علمی ورثہ ہے، جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ لائبریری کی بحالی، مرمت اور بہتری کے تمام اقدامات جلد از جلد شروع کیے جائیں گے، تاکہ اس تاریخی ادارے کو دوبارہ فعال بنا کر طلبہ، محققین اور علم دوست شہریوں کے لیے ایک مؤثر، جدید اور فعال علمی مرکز کی حیثیت سے بحال کیا جا سکے۔