افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں طالبان کی جانب سے سزا کے طور پر ایک مرد اور ایک خاتون کو سرعام کوڑے مارے گئے۔
طالبان کی سپریم کورٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ سزا اتوار کے روز ضلع درقد میں دی گئی جہاں دونوں افراد کو ایک، ایک سال قید اور 25، 25 کوڑوں کی سزا سنائی گئی تھی۔
افغان میڈیا کے مطابق عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سزا عدالتی فیصلے کے مطابق نافذ کی گئی، طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں جسمانی سزاؤں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
افغان میڈیا کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران افغانستان بھر میں کم از کم 320 افراد کو سزا کے طور پر کوڑے مارے گئے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے طالبان کی جانب سے جسمانی سزائیں دیے جانے کی بارہا مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔