اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا جعلی ملازم ظاہر ہونے والے ایک شخص کو سندھ کے ضلع گھوٹکی سے گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم مبینہ طور پر خود کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا گریڈ 17 کا افسر ظاہر کرکے مختلف غیر قانونی مراعات اور پروٹوکول حاصل کرتا رہا۔
قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق گھوٹکی کے رہائشی عبدالواجد نے خود کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا ملازم اور گریڈ 17 کا افسر ظاہر کر رکھا تھا۔ اس کے خلاف عوامی شکایات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات کے بعد معاملے کا نوٹس لیا گیا، جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم عبدالواجد کو گرفتار کر لیا۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران ملزم کے قبضے سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا جعلی تقرر نامہ برآمد ہوا، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی کے مبینہ جعلی دستخط بھی موجود تھے۔ حکام کے مطابق ملزم ان جعلی دستاویزات کی بنیاد پر خود کو سرکاری افسر ظاہر کرتا اور مختلف مقامات پر مراعات اور پروٹوکول حاصل کرتا رہا۔
ترجمان قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ عبدالواجد نامی شخص کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے کسی بھی نوعیت کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تقرری یا ملازمت کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی یا کسی بھی سرکاری ادارے کے نام پر جعلی دستاویزات تیار کرنا، سرکاری عہدہ ظاہر کرنا اور اس کی بنیاد پر فوائد حاصل کرنا ایک سنگین اور قابلِ تعزیر جرم ہے، جس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے جعلساز عناصر سے ہوشیار رہیں اور قومی اسمبلی یا کسی بھی سرکاری ادارے سے متعلق تقرری ناموں، اسناد یا دیگر دستاویزات پر یقین کرنے سے قبل ان کی متعلقہ ادارے سے تصدیق ضرور کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اکیلے کام کر رہا تھا یا اس جعلسازی میں کوئی اور افراد بھی اس کے ساتھ ملوث تھے۔