اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی یا اضافے سے متعلق واضح مؤقف دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے جارہی ہے، خصوصاً 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے رعایت برقرار رہے گی یا نہیں۔
اس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر توانائی اویس لغاری اور وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے پر مسلسل کام کررہے ہیں اور آئندہ دنوں میں بجلی سبسڈی سے متعلق مزید بات چیت ہوگی۔
کمیٹی ارکان نے وزیر خزانہ سے براہ راست سوال کیا کہ کیا بجلی سستی ہوگی یا مہنگی؟ تاہم محمد اورنگزیب نے اس سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتا۔
آئی ایم ایف بورڈ اجلاس کا ذکر
وزیر خزانہ نے اجلاس کے دوران آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات پر بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس کل ہوگا اور پاکستان نے اپنے طے شدہ معاشی اہداف پورے کرلیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرض کی منظوری اب آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے پر منحصر ہے۔
بجلی سبسڈی پر خدشات
حالیہ دنوں میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو بجلی سبسڈی کے نئے نظام کے نفاذ کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد عوام میں خدشات پیدا ہوئے کہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے سبسڈی ختم کی جاسکتی ہے۔
بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی عوام کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، جبکہ مہنگائی کے باعث گھریلو صارفین اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
حکومت کیلئے بڑا چیلنج
حکومت کو ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ہیں جبکہ دوسری جانب عوام کو ریلیف فراہم کرنا بھی بڑا چیلنج ہے۔ توانائی شعبے میں گردشی قرضہ، بجلی چوری اور سبسڈی کے مسائل حکومت کیلئے مسلسل مشکلات پیدا کررہے ہیں۔
تاحال حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں یا سبسڈی کے مستقبل سے متعلق کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔