PAK JAZBO NEWS
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
pakjazbo.com
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • دنیا
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
Friday, Jun 5, 2026
PAK JAZBO NEWSPAK JAZBO NEWS
Font ResizerAa
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
Search
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • دنیا
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • سائنس و ٹیکنالوجی
Follow US
دنیا

امریکا: مڈٹرم الیکشن سے قبل سیاسی و آئینی بحران، نسل پرستانہ بنیادوں پر قائم حلقہ بندی کالعدم قرار

admin
Last updated: May 2, 2026 10:50 am
admin
Share
SHARE

امریکا میں2026 کے مڈٹرم انتخابات سے قبل سیاسی اور آئینی سطح پر کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے، سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو انتخابی نظام کے مستقبل پر دور رس اثرات رکھنے والا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ میں امریکی شہری فلپ کیلائس اور دیگر شہریوں نے ریاست لوزیانہ کیخلاف نسل پرستانہ بنیادوں پر نیا حلقہ قائم کرنے پرکیس دائر کیا تھا جو لوزیانا بخلاف کیلائس کے نام سے مشہور ہوا، عدالت نے کیس میں 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے لوزیانا میں پارلیمنٹ کے نئے انتخابی حلقے کو کالعدم قرار دے دیا۔

اس حلقے میں ایک نیا اکثریتی سیاہ فام حلقہ شامل کیا گیا تھا، جسے نچلی عدالت نے پہلے ہی امتیازی قرار دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ حلقہ بندی غیر آئینی اور نسلی بنیادوں پراور اقلیتوں کی نمائندگی کو کم کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔

عدالت کے مطابق انتخابی حلقہ بندیوں میں نسل پرستی کے استعمال کی حد آئینی طور پر محدود ہے اور ریاستیں اس بنیاد پر ایسے حلقے نہیں بنا سکتیں جو آئینی اصولوں سے متصادم ہو۔

فیصلے کے بعد ووٹنگ رائٹس ایکٹ، حلقہ بندیوں اور ووٹر حقوق سے متعلق بحث غیر معمولی شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز ایک دوسرے پر انتخابی فائدے اور اثراندازی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ انتخابی حلقہ بندی میں ممکنہ تبدیلیاں ہوسکتی ہیں۔ 

ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں، ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتے ہیں،ڈیموکریٹس،فیصلہ نسلی اثرات سے پاک انتخابی نظام کی طرف قدم ہے۔ اس فیصلے کو انتخابی قانون سازی میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد ریاستی سطح پر نئی حلقہ بندیوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے، قانونی جنگوں میں اضافہ ہوگیا، ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی قوانین میں سختی پر سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے،ریاستی خودمختاری اور وفاقی عدالتی کردار پر نئی آئینی بحث شروع ہوگئی جبکہ انتخابی اثراندازی اور ووٹر دباؤ کے الزامات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ 

ڈیموکریٹک حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ بالواسطہ طور پر ریپبلکنز کو انتخابی فائدہ دے سکتا ہے، کیونکہ اس کے بعد ریاستوں کو حلقہ بندیوں میں زیادہ آزادی حاصل ہو سکتی ہے۔ 

ان کے مطابق اس سے کانگریس میں نشستوں کا موجودہ توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ایوانِ نمائندگان میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست 2026 کے مڈٹرم نتائج پر پڑ سکتے ہیں۔  اسی وجہ سے کئی ریاستوں میں انتخابی حلقہ بندی پر نظرثانی کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مختلف ریاستوں میں مقدمات اور اپیلوں میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ انتخابی حلقہ سازی اب ایک شدید قانونی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

ریپبلکن مؤقف کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ انتخابی نظام کو نسل پرستانہ اثرات سے پاک بنانے کی طرف ایک آئینی قدم ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے انتخابی نمائندگی کے توازن کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

اسی دوران انتخابی قوانین اور ووٹر رجسٹریشن سے متعلق سختیوں پر بھی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث انتخابی شفافیت اور ووٹر اعتماد ایک مرکزی بحث بن گئے ہیں۔ادھر مختلف رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی اداروں میں انتخابی سلامتی سے متعلق تبدیلیوں، نئی تقرریوں اور بعض تجربہ کار اہلکاروں کی برطرفی نے بھی خدشات کو بڑھایا ہے۔ 

محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی، ایف بی آئی اور محکمہ انصاف میں انتخابی نگرانی کے شعبوں میں ردوبدل کے بعد غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ورجینیا میں بھی انتخابی حلقہ بندیوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں عدالت نے ریفرنڈم کے ذریعے منظور شدہ حلقہ بندی کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی درخواست پر یہ فیصلہ سامنے آیا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے اپیل کا اعلان کردیا ہے۔

Share This Article
Facebook
Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

304.9kLike
343kFollow
844.87MFollow
40.49MSubscribe
39.5kFollow
WhatsAppFollow
عظمیٰ طاہر کا دانش تیمور پر تنقید، “غرور آ گیا ہے، انسان کو اپنا کل یاد رکھنا چاہیے”
ایران جنگ کے دوران امریکی ایئرلائنز کے ایندھن اخراجات میں نمایاں اضافہ
سعودی عرب کے فضائی حدود سے انکار نے ٹرمپ کو “پراجیکٹ فریڈم” روکنے پر مجبور کردیا، امریکی اخبار
قوم متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے متزلزل نہیں کرسکتی، اسحاق ڈار

You Might Also Like

دنیا

Innovations Redefining the Landscape of Transportation Technology

7 Min Read
دنیا

اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والا غیر ملکی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا: ایران

1 Min Read
دنیا

برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بنگلادیش کی حمایت میں بھارت کیخلاف مظاہرہ

1 Min Read
دنیا

متحدہ عرب امارات نے بارش بڑھانے کے لیے 1.5 ملین ڈالر کے کلاؤڈ-سیڈنگ گرانٹس کا آغاز کر دیا

2 Min Read
Facebook-f Twitter Youtube

Pak Jazbo News, Designed by Aashan Ashfaque

PAK JAZBO NEWS
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?