اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جبری مشقت کے ذریعے تیار کی جانے والی اشیاء کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد عالمی لیبر معیارات کی پاسداری اور غیر اخلاقی کاروباری طریقوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایسی تمام اشیاء، جو مکمل یا جزوی طور پر جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی ہوں، ان کی درآمد ممنوع ہوگی۔ یہ پابندی کسی مخصوص ملک یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر لاگو ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت عالمی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے معیار کے مطابق ان ممالک، اداروں اور اشیاء کی نشاندہی کرے گی جہاں جبری مشقت کے استعمال کا خدشہ ہو۔
حکام کے مطابق اگر کسی مخصوص ملک یا خطے سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر شبہ ہو تو درآمد کنندگان کو لازمی طور پر دستاویزی ثبوت یا سرٹیفکیشن فراہم کرنا ہوگا کہ مصنوعات جبری مشقت کے بغیر تیار کی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے تجارتی نظام کو مزید شفاف اور ذمہ دار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم اس پر مؤثر عملدرآمد کے لیے سخت نگرانی اور تصدیقی نظام کی ضرورت ہوگی۔
یہ پابندی نہ صرف انسانی حقوق کے تحفظ کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان کو عالمی تجارتی منڈی میں ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔