اسلام آباد: پاکستان نے امریکا اور ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے تحت ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی حتمی تاریخ وزیراعظم شہباز شریف کی غیر ملکی دورے سے وطن واپسی کے بعد ہی طے کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اس عمل میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ایران اور امریکا نے بھی پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں وہی وفود شریک ہوں گے جنہوں نے پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں شرکت کی تھی۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پہلا مذاکراتی دور اسلام آباد میں ہوا تھا، جسے سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی، تاہم حتمی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔ اس کے باوجود فریقین کے درمیان براہ راست گفتگو کا آغاز ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کے فوراً بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔ پاکستان اس عمل کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور سفارتی سطح پر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اس وقت خطے کے اہم ممالک کے دورے پر ہیں۔ وہ پہلے مرحلے میں سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جہاں انہوں نے اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس کے بعد وہ قطر اور ترکیہ کا دورہ بھی کریں گے، جہاں علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بات چیت کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ اور اس کے بعد مذاکراتی عمل میں پیش رفت پاکستان کے لیے سفارتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور ایسے میں پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کے اگلے مرحلے میں مزید پیش رفت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں بھی مرکوز ہیں۔