اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اہم سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں، جہاں سے وہ قطر اور ترکیہ بھی جائیں گے۔ یہ دورہ 15 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا اور اس دوران وزیراعظم اہم عالمی و علاقائی امور پر مختلف ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔ اس دورے کو پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم سعودی عرب پہنچیں گے جہاں وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نئے اقدامات پر بھی غور کریں گے۔
سعودی عرب کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی معاشی معاونت کے حوالے سے مثبت اشارے بھی سامنے آئے ہیں، جو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا عکاس ہیں۔
سعودی عرب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف قطر کا دورہ کریں گے، جہاں وہ قطری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔ قطر پاکستان کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے، خصوصاً توانائی کے شعبے میں، اور اس دورے کے دوران مزید مواقع تلاش کیے جانے کا امکان ہے۔
دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم ترکیہ جائیں گے جہاں وہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے۔ یہ فورم عالمی رہنماؤں، ماہرین اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں عالمی مسائل اور ان کے حل پر بات چیت کی جاتی ہے۔
ترکیہ میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے جو فورم میں شریک ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی فعال خارجہ پالیسی کا مظہر ہے، جس کے ذریعے ملک اپنے اہم اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم اپنے اس دورے کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر بھی مشاورت کریں گے۔ پاکستان اس وقت خطے میں سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کرے گا۔