ٹرمپ کے مطابق بورڈ آف پیس کا دائرہ کار غزہ سے آگے بڑھ کر عالمی چیلنجز سے نمٹنے تک ہوگا۔
انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کا متبادل بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
19 ممالک کے عالمی رہنماؤں اور اعلیٰ حکام نے چارٹر پر دستخط کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈاووس میں اپنے نئے “بورڈ آف پیس” کا باقاعدہ آغاز کیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں نے غزہ کے لیے دیرپا امن معاہدے کی کوششوں کے تحت چارٹر پر دستخط کیے۔
19 ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کا ایک گروپ، جس میں ارجنٹینا اور ہنگری جیسے ٹرمپ کے اتحادی بھی شامل تھے، امریکی صدر کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھا اور ادارے کے بانی چارٹر پر دستخط کیے گئے۔
صدر ٹرمپ اس چارٹر پر دستخط کرنے والے پہلے شخص تھے، بعد ازاں انہوں نے 56ویں سالانہ ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے موقع پر منعقدہ اس تقریب کا مشاہدہ کیا۔
پاکستان کو صدر ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، جسے بعد میں قبول کر لیا گیا۔
بورڈ آف پیس کے چیئرمین صدر ٹرمپ نے کہا کہ “زیادہ تر صورتوں میں یہ بہت مقبول رہنما ہیں، کچھ صورتوں میں اتنے مقبول نہیں، زندگی اسی طرح چلتی ہے۔”
ابتدائی طور پر یہ بورڈ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد غزہ میں امن کی نگرانی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے وسیع کردار کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث خدشات ظاہر کیے گئے کہ ٹرمپ اس ادارے کو اقوامِ متحدہ کا حریف بنانا چاہتے ہیں۔
تاہم ٹرمپ نے کہا کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا، نہ کہ اس کا متبادل ہوگا۔
بورڈ آف پیس کی ممکنہ رکنیت تنازع کا باعث بھی بنی ہے، کیونکہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی دعوت دی ہے، جنہوں نے چار سال قبل یوکرین پر حملہ کیا تھا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ روسی صدر نے کہا ہے کہ وہ ابھی اس دعوت پر غور کر رہے ہیں۔
چارٹر کے مطابق مستقل رکن بننے کے لیے ایک ارب ڈالر کی فیس بھی ادا کرنا ہوگی، جس پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا “پیسے دے کر شامل ہونے” والا ورژن بن سکتا ہے۔
برطانیہ اور فرانس نے دستخط سے گریز کیا
امریکا کے اہم اتحادی ممالک، جن میں فرانس اور برطانیہ شامل ہیں، نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، جبکہ برطانیہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔
اسٹیج پر موجود زیادہ تر اراکین کے صدر ٹرمپ سے قریبی تعلقات تھے، جن میں ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان اور ارجنٹینا کے صدر جاویئر میلی شامل ہیں، یا وہ امریکی صدر سے اپنی وابستگی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
بحرین، مراکش، آرمینیا، آذربائیجان، بلغاریہ، انڈونیشیا، اردن، قازقستان، کوسوو، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور منگولیا کے حکام نے بھی ٹرمپ کے ساتھ اس دستاویز پر دستخط کیے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جنہیں غزہ جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا سامنا ہے، نے کہا ہے کہ وہ بھی بورڈ میں شامل ہوں گے، تاہم وہ تقریب میں موجود نہیں تھے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ میں ہونے والا امن معاہدہ دیرپا ثابت ہو۔
تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے میں حماس کو اسلحہ چھوڑنا ہوگا، ورنہ یہ “ان کا خاتمہ” ہوگا۔
یہ بورڈ ایسے وقت میں لانچ کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ نوبل امن انعام حاصل نہ کر پانے پر مایوسی کا شکار ہیں، حالانکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے آٹھ تنازعات ختم کیے، تاہم یہ دعوے متنازع رہے ہیں۔