میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ 28 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا جس کے باعث عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 70 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور یہ واقعہ اب ایک قومی سانحہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ اس وقت پہلی اور سب سے اہم ترجیح قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین ضرور کیا جائے گا، تاہم فی الحال تمام توجہ جانیں بچانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شہر کے تین بڑے بلڈرز سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ مارکیٹ کو بحال کیا جا سکے اور متاثرہ تاجروں کو جلد از جلد امداد فراہم کی جا سکے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ موقع پر 2,500 پانی کی بوتلیں فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ وہ ذاتی طور پر متاثرین کے لیے کھانے کا بندوبست بھی کریں گے جب تک ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
انہوں نے عمارت کے اندر ایک حاملہ خاتون کی موجودگی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کی محفوظ بازیابی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گورنر سندھ نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاست کا نہیں بلکہ متاثرین کے مکمل ازالے کا وقت ہے۔
آخر میں گورنر سندھ نے کہا کہ وہ متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑے رہیں گے جب تک انہیں ان کے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہیں دیا جاتا اور جہاں بھی عوام کے لیے جانا پڑا، وہ وہاں جائیں گے۔