متاثرہ خاندانوں میں امداد کی تقسیم کل سے شروع ہوگی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ توجہ غلطیوں کی اصلاح اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام پر ہے
آتشزدگی کے مقام سے 15 لاشیں نکال لی گئیں، جن میں سے 5 ناقابلِ شناخت ہیں
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے فی خاندان ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے اور تباہ شدہ عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پیر کے روز کراچی میں دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد نے کہا کہ گل پلازہ کی آگ ایک “بڑا سانحہ” ہے اور نقصان کی شدت کے باعث پوری عمارت کو گرانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں تین مختلف مقامات سے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم آگ ابھی مکمل طور پر بجھی نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امدادی رقوم کی تقسیم کل سے شروع کر دی جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت توجہ غلطیوں کی اصلاح اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام پر مرکوز ہے۔ واقعے کی تحقیقات کراچی کمشنر کی نگرانی میں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کسی فرد کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہوں گی، تاہم اگر تخریب کاری کے شواہد ملے تو کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے ہنگامی رسائی اور فائر سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، “ایسے واقعات میں ہر ماہر کو بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔”
انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ آگ میں نقصان اٹھانے والے دکانداروں کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
احتساب کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا، “ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں پر غور کرنا ہوگا۔ میں عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔”
انکوائری کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات اور کسی بھی کوتاہی کی نشاندہی کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے ضرورت پڑنے پر عدالتی کمیشن بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا اور کہا کہ اصل مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہے۔
وزیراعلیٰ کا تمام متاثرین کی بحالی کا عزم
پریس کانفرنس سے قبل وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا، کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکام کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی جس میں گل پلازہ آتشزدگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک کمیٹی متاثرہ تاجروں کو فوری طور پر دکانیں فراہم کرنے کے حوالے سے مشاورت کرے گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تعمیرِ نو کے عمل میں نہ صرف عمارت کی بحالی بلکہ متاثرہ تاجروں اور خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے کہا، “میں گل پلازہ کے تمام متاثرین کی بحالی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہتا ہوں۔”
کراچی کمشنر کے مطابق، کثیر المنزلہ عمارت میں ہفتے کی شب لگنے والی آگ 24 گھنٹوں سے زائد وقت تک بھڑکتی رہی، جس کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، تاہم کولنگ کا عمل اب بھی جاری ہے۔
آگ کے باعث عمارت کے کچھ حصے منہدم ہو گئے جبکہ گھنے دھوئیں نے ریسکیو کارروائیوں کو شدید متاثر کیا۔
سندھ حکومت کے قائم کردہ ہیلپ ڈیسک کے مطابق اب تک 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں سے 5 ناقابلِ شناخت ہیں، جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد 73 ہو گئی ہے۔ عمارت میں 1,200 سے زائد دکانیں تھیں جس سے اتنے ہی تاجر متاثر ہوئے۔ وزیراعلیٰ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 50 سے 60 تک جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ مراد نے کہا کہ اس سانحے سے کئی خاندان متاثر ہوئے اور بے شمار تاجر بے روزگار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آگ بجھاتے ہوئے جان دینے والے فائر فائٹرز کے اہلِ خانہ کے لیے فوری معاوضے کا اعلان کیا اور بتایا کہ ان میں سے ایک فائر فائٹر کا تعلق فائر فائٹنگ کے پیشے سے وابستہ خاندان سے تھا۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آگ کی وجوہات جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی جا رہی ہے اور چیف سیکریٹری کو کمیٹی کے باضابطہ نوٹیفکیشن کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ معاوضے اور بحالی کے لیے ایک اور کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو تاجروں سے مشاورت کے ساتھ کام کرے گی۔ یہ کمیٹی جاں بحق افراد، بشمول فائر فائٹرز، کے لواحقین کے لیے معاوضے کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا، “تاجروں نے تجویز دی ہے کہ ان کے کاروبار فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور ہم اس پر کام کریں گے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طویل المدتی فائر سیفٹی اور احتیاطی اقدامات کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد بھی کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے حکام کو فوری طور پر ملبہ ہٹانے کی ہدایت دی اور آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے فرانزک تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ چیف سیکریٹری کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو باضابطہ نوٹیفائی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ تاجروں کے تمام نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کاروبار فوری طور پر بحال کیا جائے، اور کمیٹی اس پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلسل رابطے میں ہیں اور متاثرہ تاجروں کے کاروبار فوری بحال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت متاثرہ تاجروں کے لیے فوری اقدامات چاہتی ہے۔
انہوں نے اختتام پر وعدہ کیا کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی فائر فائٹنگ اور حفاظتی منصوبہ تیار کر کے نافذ کیا جائے گا۔
ادھر کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی واٹر بورڈ نے آگ بجھانے کے لیے 4 لاکھ 31 ہزار گیلن پانی فراہم کیا۔ ریسکیو 1122 پہلی کال کے چھ منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گیا تھا۔ ریسکیو آپریشن میں 50 سے 60 فائر فائٹرز نے حصہ لیا جنہیں 16 فائر ٹینڈرز اور بلڈوزرز کی مدد حاصل تھی۔
فائر فائٹرز کے مطابق عمارت میں مناسب وینٹیلیشن نہ ہونے کے باعث دھواں جمع ہو گیا جس سے ریسکیو کارروائیاں سست ہو گئیں۔ پھنسے ہوئے افراد تک پہنچنے کے لیے کھڑکیاں کاٹنی پڑیں اور دیواریں توڑی گئیں۔
مزید برآں، مشیر برائے بحالی گیان چند نے اجلاس کو بحالی کے اقدامات پر بریفنگ دی جبکہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ بحالی کا کام تاجروں سے مشاورت کے ساتھ کیا جائے گا۔