سکھر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے نیو بس ٹرمینل روہڑی کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان، ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر سکھر فیاض منگی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر کی جائیں، نیو بس ٹرمینل روہڑی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، انہوں نے کہا کہ نیو بس ٹرمینل روہڑی کے قیام سے سکھر اور روہڑی کے عوام کو بہتر اور منظم سفری سہولیات فراہم ہونگی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ مل کر سکھر اور روہڑی میں ٹریفک اشوز میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ نیو بس ٹرمینل روہڑی میں دیگر سہولیات کے ساتھ باؤنڈری وال اور مسافروں کے لیے مزید واش رومز بھی تعمیر کرائے جائیں گے، جبکہ اس سلسلے میں چیئرمین ضلع کونسل سکھر کو بھی تعاون کے لیے کہا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے نیو بس ٹرمینل روہڑی کی باقاعدہ فعالی کے لیے ضلع انتظامیہ کی کوششوں اور ٹرانسپورٹرز کے مثبت تعاون کو سراہا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سکھر نادر شہزاد خان نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت، ضلع انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی مشترکہ کوششوں سے بس ٹرمینل کو فعال بنایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سکھر اور روہڑی میں ٹریفک اشوز میں کمی لائی جائے۔
بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کا گزشتہ روز کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے متعلق کہنا تھا کہ انتظامیہ، بلدیہ کے نمائندے اور پیپلز پارٹی کے ایم پی اے فوری طور پر موقع پر پہنچ چکے تھے، فائر فائٹر عملہ فائر برگیڈ گاڑیوں کے ہمراہ پہنچ کر آگ بجھانے کے عمل میں مصروف رہا، اس دوران ایک فائر فائٹر نے بھی فرض نبھاتے ہوئے اپنی جان گنوا دی، انہوں نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک واقعہ تھا، جس سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ کئی ایک زخمی بھی ہوئے، اور تاجر برادری کو اس واقع سے بھاری مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ آتشزدگی واقع کے اسباب معلوم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو انکوائری کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے بتایا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ سکھر میں دریائے سندھ پر ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت کے لیے ایک نیا پل تعمیر ہو، کیونکہ موجودہ سکھر بیراج پل اور لینسڈاؤن پل دونوں ہی قدیمی اور تاریخی اثاثہ ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ان پلوں پر ٹرانسپورٹیشن محدود تر ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئی ترامیم کابینہ بھیج کر اسیمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ لوکل کونسلوں/ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔
صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دے کر اپنے لوگوں کو تکلیف میں ڈالنا نہیں چاہیے، اس سے فساد اور ان کا اپنا ہی نقصان واقع ہوگا، اس لیے تو کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی – پی (پاکستان تحریک انصاف پرامن) بننا ہوگا اور آئندہ انتخابات تک صبر کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا سندھ حکومت کی ہدایات پر پولس کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کر گھوٹکی اور دیگر اضلاع میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں، جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے سخت ایکشن لیے ہیں اور آئندہ بھی لینگے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبے بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن تفریق کا افسوسناک عمل ضرور ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 2013ء سے لے کر دیگر صوبوں میں اربوں رقم کے کام کرائے ہیں، وہاں صوبائی روڈ بھی این ایچ اے بنا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حال یہ ہے کہ سندھ کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے مختلف فورمز پر آواز اٹھائی ہے۔