سکھر(بیورورپورٹ) سفید پوش کی زندگی اجیرن، گردوں کے مرض میں مبتلا مریض کی امداد کے لیے کوئی تیار نہیں، خبر کے مطابق سکھر میں گردوں کے مرض میں مبتلا سفید پوش مریض شیر زمان بروہی کو ایس آئی یو ٹی سکھر میں ڈائلاسز کی بہترین سہولت دستیاب تھی لیکن برما کیپس کی سہولت صرف ایس آئی یو ٹی کراچی میں دستیاب ہے جس کی وجہ سے مریض کو سکھر سے کراچی کے ایس آئی یو ٹی منتقل کرنے کے لیے 1122 ایمبولینس سروس کی ضرورت ہے تاہم گزشتہ 48 گھنٹوں سے ایمبولنس کی عدم دستیابی کے باعث مریض کراچی منتقل نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق مریض کو فوری طور پر کراچی کے ایس آئی یو ٹی میں آپریشن کے ذریعے برما کیپس لگایا جانا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ ایئر ایمبولنس تو دور کی بات، مریض کو منتقل کرنے کے لیے ڈبل ون ڈبل ٹو ایمبولنس سروس بھی دستیاب نہیں ہو سکی۔مریض شیر زمان بروہی نے بتایا کہ وہ کوئٹہ میں مقیم تھا اور درزی گری کر کے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتا تھا۔ گردوں کی خرابی کے باعث وہ کئی ماہ سے سکھر میں ڈائلاسز کے ذریعے زیرِ علاج ہے۔ ڈاکٹروں نے حالت تشویشناک ہونے پر کراچی ریفر کیا، مگر ایمبولنس نہ ملنے کے باعث اس کی طبیعت مزید بگڑتی جا رہی ہے۔مریض کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات سے ڈبل ون ڈبل ٹو ایمبولنس سروس کو مسلسل کالز کی جا رہی ہیں، لیکن کراچی لے جانے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ حیران کن طور پر علاقے کے بڑے سیاسی گھرانے بھی مریض کی مدد نہ کر سکے۔شیر زمان بروہی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس کی کراچی منتقلی اور علاج کے لیے مدد فراہم کریں۔ مریض کا کہنا ہے کہ وہ ایک غریب اور سفید پوش انسان ہے اور اس کے پاس علاج کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔شہری حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مریض کو فوری طور پر ایمبولنس فراہم کر کے کراچی منتقل کیا جائے تاکہ قیمتی انسانی جان کو بچایا جا سکے۔
Share This Article
Leave a Comment