جو آج تک بازیاب نہیں ہوسکا ہے, اور جب کہ علی اصغر کے اغوا کار اور بونگا مانگنے والے نامینیٹ ہیں، پی ڈی ایس پی خالد منگریو، منظور منگریو، سعید منگریو اور جنید منگریو ہیں. اِن کے نمبر اجینسی نے ٹریس کر کے دیئے تھے۔ اگر پولیس مزید سيڈیارے نکلواتی ٹاور کی جیوفینسنگ کرواتے تو اغوا کارو کی پوری گینگ پکڑی جاتی اور بروقت میرا بیٹا بازیاب ہوجاتا، پولیس نے ایسا نہیں کیا، پولیس میرے بیٹے کے اغوا میں ملوث ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم سے ہوم سیکریٹری سندھ نے ایجنسی کی جی آئی ٹی تشکیل دی تھی جس نے ڈھائی سال انکوائری کی، 50 میٹنگ کی۔ اس انکوائری میں ملزمان قصور وار ثابت ہوے ہیں، جی آئی ٹی نے ہائی کورٹ میں لکھ کر دیا ہے۔ کہ علی اصغر اغوا ہے۔ہم دوسری GIT بناتے ہیں جو علی اصغر کو باریاب کروائگی، اُس انکوائری کو تین سال ہو چکے ہیں، اور علی اصغر کو اغوا ہوئے دس سال ہو چکے ہیں۔ابھی GIT کے ممبر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کہی علی اصغر اغوا نہیں ہے, اور یہ چاروں جوابدار نہیں ہیں پھر میں اپنا بیٹا اللّٰہ پر چھوڑ دونگا۔احتجاجی مظاہرے میں شامل ریلوے پولیس کانسٹیبل سکھر ڈویژن زاهد حسين منگریو, احمد علی منگریو, اور شہریوں نے شرکت کی
سکھر پریس کلب کے سامنے مغوی معصوم علی اصغر منگریو کی بازیابی کے لیے مسلسل 812 روز سے احتجاج جاری ہے۔
Share This Article
Leave a Comment