جسٹس محمد اعظم خان نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی درخواست پر سماعت کی
وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو ایمان مزاری کی خرابیِ صحت سے آگاہ کیا
جج افضل مجوکا نے جوڑے کو کل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پیر کے روز متنازع ٹوئٹس کیس میں وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو ایک روزہ حفاظتی ضمانت دے دی۔
عدالت نے متعلقہ کیس میں حکام کو وکیل جوڑے کی گرفتاری سے بھی روک دیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جوڑے کی ضمانت دو مرتبہ منسوخ کی جا چکی ہے اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
کامران مرتضیٰ نے کہا، “ایمان مزاری ایک خاتون ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں ہے۔”
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد 30 اکتوبر کو ان پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق، وکیل جوڑے پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔
گزشتہ ماہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے جج محمد افضل مجوکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متنازع ٹوئٹس کیس کسی اور عدالت منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرائل کے دوران شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے، اس لیے کیس کسی دوسری عدالت کو منتقل کیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے ایڈیشنل سیشنز جج افضل مجوکا کے اس فیصلے کے تناظر میں آیا ہے جس میں انہوں نے دونوں ملزمان کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے 15 جنوری کو گرفتاری اور عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے بار بار عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے جرح (کراس ایگزامینیشن) کے حق کو بھی ختم کر دیا تھا۔
اسی روز علیحدہ طور پر ایڈیشنل سیشنز جج افضل مجوکا نے متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت کی اور وکیل جوڑے کو ہدایت کی کہ وہ کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ان کی عدالت میں بھی حاضر ہوں۔
جج نے ریمارکس دیے، “آپ نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، اب کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان عدالت میں پیش ہوں گے اور ان کا بیان ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 342 کے تحت ریکارڈ کیا جائے گا۔